BACK TO FUTURE

BACK TO FUTURE
واپس مستقبل کی جانب
”””””””””””””””””””’
تم تو، لوگو
ماضی سے دو چار قدم ہی آگے آ کر
یہ کہتے ہو تم نے بہت ترقی کر لی
میں جو مستقبل سے چل کر
حال کے اس لمحے تک واپس آ پہنچا ہوں
میں جو اپنے ماضی ٔ مطلق کی
لاوارث نسل نہیں ہوں
میں جو حال کا مالک بھی ہوں
میں جو مستقبل کے امکاں
اور یقیں کا خود خالق ہوں
مجھے، مرے فن کی اصلیت، اس کی اہمیت کو سمجھو
ماضی سے دو چار قدم ہی آگے آ کر
اپنی اس ترویج پہ تم کو ناز بہت ہے
حاضر و حال کے اس لمحے میں
شاکر رہنے والے لوگو
میں ہوں ایسے حال کا داعی
جو مستقبل کے ہر کل کو
اپنے بیتے کل میں پہلے بھوگ چکا ہے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2 thoughts on “BACK TO FUTURE

  1. قبلہ جب پوری کائنات ہی گردش اور مدار پہ قایم ہے تو تہزیب س تمدن کے گونجنے یا دہرائے اور ایک دائرے میں محدود رہنے پہ حیرت کیا? دایرے میں حرکت کو آپ آگے پیچھے اوپر نیچے جو بھی نام دو, اضافی اور فرضی بات ہی ہوگی..چکر لگا کر آنے دالے کو آ پ کیا نام دوگے..آ نے والا یا جانے والا?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *